Wednesday, 10 December 2025

ڈاکٹر اکرم مغل ڈسپنسری والے


ڈاکٹر اکرم مرحوم

 ڈاکٹر اکرم پیشے کے لحاظ سے ایک پاکستانی ڈاکٹر  تھے۔آپ کا تعلق گوجرانوالہ  سے تھا۔ڈاکٹر صاحب  سن اڑسٹھ1968 میں   سرکاری ڈاکٹر  کے طور پرعلاقہ مغل ملحقہ سہالہ اسلام آباد  میں تعینات ہوئے اور چھوٹی سی مغل ڈسپنسری میں ذمہ داریاں سرانجام دینے لگے۔




وہ نہایت ہی دیانتداری انسان تھے اور اپنے فرض کو بخوبی نبھانا جانتے تھے۔علاقہ مغل میں کافی سارے چھوٹے بڑے گاؤں  تھے جبکہ سرکاری پرائمری  کے علاوہ  ایک ہائی  سکول بھی موجود تھا جو بعد میں بنا۔ڈاکٹر اکرم نہایت ہی ایمانداری سے ہر شخص کی خدمت کرتے تھے۔گورنمنٹ  پرائمری اور ہائی  سکول  کے پاس ہی ان کا گھر اور کلینک تھا۔وہ طبیعت کے سادہ مگر بہت سخت تھے۔غیر ضروری بات چیت سے گریز کرتے تھے۔ان کی آنکھیں نیلی تھیں۔عام لوگ ان سے زیادہ  دیر تک آنکھ نہیں  ملا پاتے تھے اور گفتگو بھی کم کرتے تھے۔وہ علاقہ مغل کی خدمت بغیر کسی لالچ کے کیا کرتے تھے۔ان کے پاس ایک موٹر سائیکل بھی ہوا کرتا تھا۔علاقے میں جیسے ہی کسے کو بخار ہوتا تو اطلاع ملنے پر فورا پہنچ آتے تھے۔ان کی دوائی بہت سادہ ہوا کرتی تھی،عموما ایک سرخ رنگ کا شربت ہوا کرتا تھا جو وہ ہر طرح کی بیماری  پر دیا کرتے تھے۔اس زمانے میں آج کل کی بیماریاں  نہیں تھیں۔

وہ بہت ماہر ڈاکٹر  تھے لیکن بہت کم لوگ  ان کی اس مہارت سے آشنا تھے۔وہ بغیر فیس کے دوائی دیا کرتے تھے،اگر کوئی پیسے دے دیتا تو  لے لیتے لیکن مانگتے نہیں تھےاور پیسے بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔علاقہ مغل کے تمام لوگ ان سے واقف تھے۔وہ بہت حساس اور دیندار انسان بھی تھے۔راستے میں جاتے ہوئے کوئی کوڑا کرکٹ یا گندگی کا ڈھیر دیکھتے تو وہاں رک جاتے اوڑھی کوڑے پر پڑھے ہوئے کاغذات کو ٹٹولتے پھرولتے،اگر کوئی مقدس ورق یا اوراق نظر آجائے تو بہت رنجیدہ ہوتے۔ان کے پاس دوائیوں کا ایک تھیلا ہوتا تھا،وہ مقدس اوراق کو تلاش  کر کے اس تھیلے میں جمع کر لیتے تھے۔لوگ ان کی اس حرکت کا مشاہدہ کرتے لیکن زیادہ شعور نہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز کرتے تھے۔یہ ان کا ہمیشہ کا معمول رہا۔بہت ساری خواتین وحضرات نے اکثر ان کو کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں پر کچھ تلاش کرتے دیکھا۔ڈاکٹرصاحب بہت پراسرار قسم کے لگتے تھے شاید ان کے کندھوں  پر کوئی بڑی ذمہ داری تھی جس کو وہ نبھا رہے تھے۔ایک عرصے تک وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہے۔

 ڈاکٹر صاحب نے شادی بھی کی تھی۔ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی تھی۔پھر ایک دفعہ انھیں ایک بہت بڑا صدمہ پہنچا،ہوا یوں کہ ان کا بڑا بیٹا لاپتہ ہو گیا اور پھر نہیں ملا۔یہ شاید سن نوے1990 کا زمانہ تھا۔بیٹے کی گمشدگی کی وجہ سے وہ بہت غمگین رہتے تھے اور گم سم رہتے تھے اور بات چیت بھی کم کرتے تھے۔اس موضوع پر لوگوں کے سوال کرنے پر کوئی جواب نہ دیتے اور شاید یہی صدمہ انھیں اندر سے کھائے جا رہا تھا۔سن 2015 کے بعد وہ کافی کمزور ہو چکے تھے۔اب ان کے پاس پہلے کی نسبت دواؤں  کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ڈاکٹر صاحب نے کے میز پر اپنے شعبے سے متعلق انگلش میں کتابوں  کا ایک ذخیرہ بھی موجود ہوتا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔



No comments:

Post a Comment

If you have any doubts please let me know