Wednesday, 10 December 2025

بام مچھلی

 بام مچھلی

Eel   Fish

بام  ایک مچھلی ہے جسے انگلش میں ایل فش eel fish کہتے ہیں۔اس کی شکل سانپ سی ملتی جلتی ہے۔اس کے علاوہ اس کی شکل ایک سبزی کڑل سے بھی ملتی ہے جس کو انگلش میں  سنیک گورڈ کہتے ہیں۔اس کی لمبائی عموما  چار انچ سے لے کر دو فٹ یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔اس کی موٹائی ایک انچ سے لے کر تین چار انچ تک یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔سمندری بام مچھلی کی لمبائی اور موٹائی زیادہ ہوتی ہے۔


Baam Fish(Eel Fish)


اس کا رنگ عام طور پر پیلا یا کالا ہوتا ہے۔یہ دریاؤں  اور سمندروں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک بڑا کانٹا ہوتا ہے اور دوسرے چھوٹے کانٹے ہوتے ہیں۔اس کا ذائقہ  بہت ہی لذیذ  ہوتا ہے اور اس کی قیمت  بھی عام مچھلی کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔اس کو لوگ سانپ مچھلی بھی کہتے ہیں۔اس کو کچھ مقامی لوگ مچھگلودرو بھی کہتے ہیں۔یہ پانی کے اندر عام طور پر چٹانوں میں پائی جاتی ہے۔اس کا مسکن پتھریلی چٹانیں اور پتھر ہوتے ہیں۔

اس کو شکار کرنے کے لئے چھوٹے  اور کم چوڑائی  والے کانٹے کا استعمال  کیا جاتا ہے اور اس کے لئے ایک برساتی کیڑے بشکل کو اس پہ چڑھایا جاتا ہے۔یہ بہت چالاک مچھلی  ہوتی ہے اور کانٹے کے ساتھ بہت چھیڑ چھاڑ کرتی ہے اور اپنی غذا حاصل کرتی ہے۔اس کو شکار کرنے کے لئے ڈوری دھاگے کے ساتھ کانٹے کو لگا کر اور پانی کی گہرائی کے حساب سے ایک جھاڑی سروٹ سرکنڈا ،جس سے چکیں بنائی جاتی ہیں،کا ایک چار یا پانچ انچ کا ایک ٹکڑا لگایا جاتا ہے جو کہ مچھلی کے کانٹے کے ساتھ لگنے کی خبر دیتا ہے ۔یہ دریائے سواں،دریائے لنگ ،دریائے جہلم،سندھ اور دیگر دریاؤں  میں  بکثرت پائی جاتی ہے۔


ڈاکٹر اکرم مغل ڈسپنسری والے


ڈاکٹر اکرم مرحوم

 ڈاکٹر اکرم پیشے کے لحاظ سے ایک پاکستانی ڈاکٹر  تھے۔آپ کا تعلق گوجرانوالہ  سے تھا۔ڈاکٹر صاحب  سن اڑسٹھ1968 میں   سرکاری ڈاکٹر  کے طور پرعلاقہ مغل ملحقہ سہالہ اسلام آباد  میں تعینات ہوئے اور چھوٹی سی مغل ڈسپنسری میں ذمہ داریاں سرانجام دینے لگے۔




وہ نہایت ہی دیانتداری انسان تھے اور اپنے فرض کو بخوبی نبھانا جانتے تھے۔علاقہ مغل میں کافی سارے چھوٹے بڑے گاؤں  تھے جبکہ سرکاری پرائمری  کے علاوہ  ایک ہائی  سکول بھی موجود تھا جو بعد میں بنا۔ڈاکٹر اکرم نہایت ہی ایمانداری سے ہر شخص کی خدمت کرتے تھے۔گورنمنٹ  پرائمری اور ہائی  سکول  کے پاس ہی ان کا گھر اور کلینک تھا۔وہ طبیعت کے سادہ مگر بہت سخت تھے۔غیر ضروری بات چیت سے گریز کرتے تھے۔ان کی آنکھیں نیلی تھیں۔عام لوگ ان سے زیادہ  دیر تک آنکھ نہیں  ملا پاتے تھے اور گفتگو بھی کم کرتے تھے۔وہ علاقہ مغل کی خدمت بغیر کسی لالچ کے کیا کرتے تھے۔ان کے پاس ایک موٹر سائیکل بھی ہوا کرتا تھا۔علاقے میں جیسے ہی کسے کو بخار ہوتا تو اطلاع ملنے پر فورا پہنچ آتے تھے۔ان کی دوائی بہت سادہ ہوا کرتی تھی،عموما ایک سرخ رنگ کا شربت ہوا کرتا تھا جو وہ ہر طرح کی بیماری  پر دیا کرتے تھے۔اس زمانے میں آج کل کی بیماریاں  نہیں تھیں۔

وہ بہت ماہر ڈاکٹر  تھے لیکن بہت کم لوگ  ان کی اس مہارت سے آشنا تھے۔وہ بغیر فیس کے دوائی دیا کرتے تھے،اگر کوئی پیسے دے دیتا تو  لے لیتے لیکن مانگتے نہیں تھےاور پیسے بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔علاقہ مغل کے تمام لوگ ان سے واقف تھے۔وہ بہت حساس اور دیندار انسان بھی تھے۔راستے میں جاتے ہوئے کوئی کوڑا کرکٹ یا گندگی کا ڈھیر دیکھتے تو وہاں رک جاتے اوڑھی کوڑے پر پڑھے ہوئے کاغذات کو ٹٹولتے پھرولتے،اگر کوئی مقدس ورق یا اوراق نظر آجائے تو بہت رنجیدہ ہوتے۔ان کے پاس دوائیوں کا ایک تھیلا ہوتا تھا،وہ مقدس اوراق کو تلاش  کر کے اس تھیلے میں جمع کر لیتے تھے۔لوگ ان کی اس حرکت کا مشاہدہ کرتے لیکن زیادہ شعور نہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز کرتے تھے۔یہ ان کا ہمیشہ کا معمول رہا۔بہت ساری خواتین وحضرات نے اکثر ان کو کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں پر کچھ تلاش کرتے دیکھا۔ڈاکٹرصاحب بہت پراسرار قسم کے لگتے تھے شاید ان کے کندھوں  پر کوئی بڑی ذمہ داری تھی جس کو وہ نبھا رہے تھے۔ایک عرصے تک وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہے۔

 ڈاکٹر صاحب نے شادی بھی کی تھی۔ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی تھی۔پھر ایک دفعہ انھیں ایک بہت بڑا صدمہ پہنچا،ہوا یوں کہ ان کا بڑا بیٹا لاپتہ ہو گیا اور پھر نہیں ملا۔یہ شاید سن نوے1990 کا زمانہ تھا۔بیٹے کی گمشدگی کی وجہ سے وہ بہت غمگین رہتے تھے اور گم سم رہتے تھے اور بات چیت بھی کم کرتے تھے۔اس موضوع پر لوگوں کے سوال کرنے پر کوئی جواب نہ دیتے اور شاید یہی صدمہ انھیں اندر سے کھائے جا رہا تھا۔سن 2015 کے بعد وہ کافی کمزور ہو چکے تھے۔اب ان کے پاس پہلے کی نسبت دواؤں  کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ڈاکٹر صاحب نے کے میز پر اپنے شعبے سے متعلق انگلش میں کتابوں  کا ایک ذخیرہ بھی موجود ہوتا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔