غزل
شاعر فنا بلند شہری
مل کے بچھڑے جو تپم ہر خُوشی چھن گئی آرزؤں کا سارا جہاں لُٹ گیا
راس آئی نہ فرقت کسی کو کبھی تم وہاں لُٹ گئے میں یہاں لُٹ گیا
میں اکیلا کھڑا تھا راہ عشق میں کوئی رہبر نہیں کس سے پوچھوں پتہ
اُن کو ڈھونڈوں کہاں اب میں جاؤں کہاں منزلیں لٹ گئیں کارواں لٹ گیا
اے نسیم سحر جا تیرا شکریہ موسم گل کا نہ مجھ کو پیغام دے
میں نہ جاؤں گا اب اس چمن میں کبھی جس چمن میں میرا آشیاں لٹ گیا
No comments:
Post a Comment
If you have any doubts please let me know